A slave tortured under the Makkan sun who refused to give up his faith, freed by Abu Bakr (RA), and honoured as the first muezzin of Islam.
Bilal ibn Rabah (RA) was born into slavery in Makkah to an Abyssinian mother named Hamamah. He was owned by Umayyah ibn Khalaf, one of the bitterest enemies of Islam. When Bilal accepted Islam in its early days, his master decided to break him.
Abdullah ibn Mas'ud (RA) narrated that the first seven people to openly declare their Islam included Bilal, and that the idolaters seized the weak among them, dressed them in iron armour and left them in the scorching sun. Bilal's life was cheap in their eyes, yet his soul was free. They handed him to the boys of Makkah, who dragged him through the streets, while he kept repeating: "Ahad, Ahad! (One, One!)" The seerah books add that Umayyah would lay him on the burning sand at midday with a heavy rock on his chest, demanding that he deny Muhammad ﷺ and worship al-Lat and al-Uzza, and he would answer only: "Ahad, Ahad."
Abu Bakr (RA) could not bear the sight. He bought Bilal and set him free for the sake of Allah. Umar (RA) later summed up this act in words full of honour: "Abu Bakr is our master, and he freed our master."
In Madinah, when the adhan was established after the dream of Abdullah ibn Zayd (RA), the Prophet ﷺ told him: "Teach it to Bilal, for his voice is more far-reaching than yours." The former slave became the first muezzin of Islam, calling the believers to prayer five times a day.
At the Battle of Badr, Bilal saw Umayyah ibn Khalaf, his former torturer, on the battlefield, and Umayyah was killed that day. On the day of the Conquest of Makkah, the seerah reports that the Prophet ﷺ commanded Bilal to climb onto the Ka'bah and call the adhan. The voice once crushed under a rock now rose above the Sacred House.
One day after Fajr the Prophet ﷺ said to him: "Bilal, tell me about the deed you do in Islam that you have most hope in, for I heard the sound of your footsteps ahead of me in Paradise." Bilal replied that whenever he purified himself at any hour of the day or night, he prayed with that purification as much as Allah had written for him.
After the Prophet ﷺ passed away, Bilal went to Syria to take part in the campaigns there and spent his last years in that land. He died in Damascus around 20 AH. His story teaches that in Islam honour is measured by taqwa, not by colour, lineage or wealth: "Indeed, the most noble of you in the sight of Allah is the most righteous of you" (49:13).
Lessons
- Faith can make a person free even while his body is in chains.
- Helping the oppressed is among the noblest deeds.
- Honour in Islam is by taqwa, not by colour or lineage.
- Small, consistent deeds like praying after wudu are beloved to Allah.
- Patience in hardship is followed by honour from Allah.
حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ: ”احد، احد!“
مکہ کی تپتی دھوپ میں اذیتیں سہنے والا وہ غلام جس نے ایمان نہ چھوڑا، جسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آزاد کیا، اور جسے اسلام کے پہلے مؤذن ہونے کا شرف ملا۔
حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ مکہ میں غلامی کی حالت میں پیدا ہوئے؛ آپ کی والدہ حبشی تھیں جن کا نام حمامہ تھا۔ آپ امیہ بن خلف کے غلام تھے جو اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا تو ان کے مالک نے انہیں ہر قیمت پر اس سے پھیرنے کی ٹھان لی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جن سات افراد نے کھلم کھلا اسلام کا اظہار کیا ان میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور مشرکین ان میں سے کمزوروں کو پکڑ کر لوہے کی زرہیں پہنا دیتے اور جھلسا دینے والی دھوپ میں ڈال دیتے۔ ان کی نظر میں بلال کی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، مگر ان کی روح آزاد تھی۔ انہوں نے بلال کو مکہ کے لڑکوں کے حوالے کر دیا جو انہیں گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے، اور وہ برابر کہتے رہتے: ”احد، احد! (اللہ ایک ہے، ایک ہے!)“ سیرت کی کتابوں میں مزید ہے کہ امیہ دوپہر کے وقت انہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ محمد (ﷺ) کا انکار کرو اور لات و عزیٰ کی پوجا کرو، اور وہ بس یہی جواب دیتے: ”احد، احد۔“
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ منظر برداشت نہ ہوا۔ انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عمل کو ان عزت بھرے الفاظ میں بیان کیا: ”ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا۔“
مدینہ منورہ میں جب حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بعد اذان مقرر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ کلمات بلال کو سکھا دو، کیونکہ ان کی آواز تم سے زیادہ بلند ہے۔“ یوں ایک سابق غلام اسلام کا پہلا مؤذن بنا، جو دن میں پانچ مرتبہ اہلِ ایمان کو نماز کے لیے پکارتا۔
غزوۂ بدر میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے میدانِ جنگ میں اپنے سابق ظالم آقا امیہ بن خلف کو دیکھا، اور اسی دن امیہ مارا گیا۔ سیرت میں ہے کہ فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔ جو آواز کبھی پتھر کے نیچے دبائی گئی تھی، آج بیت اللہ کے اوپر گونج رہی تھی۔
ایک دن فجر کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے بلال! مجھے اپنا وہ عمل بتاؤ جس سے تمہیں اسلام میں سب سے زیادہ امید ہے، کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ دن یا رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جتنی اللہ توفیق دے، نماز پڑھ لیتا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ جہاد میں شرکت کے لیے شام چلے گئے اور زندگی کے آخری سال وہیں گزارے۔ تقریباً 20 ہجری میں دمشق میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کی داستان سکھاتی ہے کہ اسلام میں عزت کا معیار تقویٰ ہے، رنگ، نسل یا دولت نہیں: ”بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے“ (الحجرات 49:13)۔
اسباق
- ایمان انسان کو آزاد کر دیتا ہے، چاہے جسم زنجیروں میں ہو۔
- مظلوم کی مدد کرنا بہترین اعمال میں سے ہے۔
- اسلام میں عزت تقویٰ سے ہے، رنگ یا نسل سے نہیں۔
- وضو کے بعد نماز جیسے چھوٹے مگر مسلسل اعمال اللہ کو بہت پسند ہیں۔
- مشکلات پر صبر کے بعد اللہ کی طرف سے عزت ملتی ہے۔
Quran references
Sources
- Sunan Ibn Majah 150 (the first seven; 'Ahad, Ahad')
- Sahih al-Bukhari 3754 ('Abu Bakr freed our master')
- Sunan Abi Dawud 499 (teaching the adhan to Bilal)
- Sahih al-Bukhari 2301 (Umayyah ibn Khalaf at Badr)
- Sahih al-Bukhari 1149; Sahih Muslim 2458 (footsteps in Paradise)
- Ibn Hisham, as-Sirah an-Nabawiyyah (torture details; adhan on the Ka'bah)
- Quran 49:13