The first free adult man to believe in the Prophet ﷺ, his companion in the Cave of Thawr, and the first Caliph who held the Ummah together when the Prophet ﷺ passed away.
Abu Bakr Abdullah ibn Abi Quhafah (RA), of the Taym clan of Quraysh, was a respected merchant of Makkah, known for his gentle manners, his knowledge of the lineages of the Arabs and his honesty. He had been a close friend of Muhammad ﷺ long before prophethood, and when the Prophet ﷺ told him about the revelation, he accepted Islam without hesitation. He was the first free adult man to believe.
He immediately put his wealth and his reputation in the service of the new faith. The seerah books report that several of the earliest Muslims, among them Uthman ibn Affan, az-Zubair, Abd ar-Rahman ibn Awf, Talhah and Sa'd ibn Abi Waqqas (RA), embraced Islam through his invitation. He bought and freed believing slaves who were being tortured for their faith, including Bilal ibn Rabah (RA). Umar (RA) later said: "Abu Bakr is our master, and he freed our master," meaning Bilal.
His title as-Siddiq, "the one who affirms the truth", reflects his firm faith. The Prophet ﷺ once said to the companions: "Allah sent me to you and you said, 'You lie,' while Abu Bakr said, 'He has spoken the truth,' and he supported me with himself and his wealth."
When the time for the Hijrah came, it was Abu Bakr whom the Prophet ﷺ chose as his companion. He prepared two riding camels, and the two hid for three nights in the Cave of Thawr while Quraysh searched for them. When the trackers stood at the mouth of the cave, Abu Bakr whispered, "If one of them looked down at his feet, he would see us." The Prophet ﷺ replied: "What do you think, Abu Bakr, of two whose third is Allah?" The Quran preserves this moment: "...when he said to his companion, 'Do not grieve; indeed Allah is with us'" (9:40).
His generosity was unmatched. When the Prophet ﷺ called for charity, Umar (RA) brought half of his wealth, hoping to surpass Abu Bakr for once, but Abu Bakr brought everything he had. Asked what he had left for his family, he said: "I have left them Allah and His Messenger."
His greatest test came when the Prophet ﷺ passed away in 11 AH. The people were in shock, and some could not accept that he had died. Abu Bakr came, uncovered the blessed face, kissed him and then addressed the people: "Whoever worshipped Muhammad, Muhammad has died; and whoever worships Allah, Allah is Ever-Living and does not die." He then recited: "Muhammad is not but a messenger; other messengers have passed on before him..." (3:144). The companions said it was as though they had never heard the verse before.
He was chosen as the first Caliph. In just over two years he kept the Muslim community united, and on the advice of Umar (RA) he had the Quran gathered into a single compiled copy for the first time, through Zayd ibn Thabit (RA). He died in 13 AH and was buried beside the Prophet ﷺ.
Lessons
- True friendship means standing by someone in hardship as well as ease.
- Affirm the truth even when others deny it.
- Spending in Allah's way does not make a person poor; trust in Allah is the real wealth.
- In times of crisis, return people to Allah and His Book.
- We love the Prophet ﷺ, but we worship Allah alone.
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ: سچے اور وفادار دوست
رسول اللہ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے آزاد مرد، غارِ ثور کے ساتھی، اور وہ پہلے خلیفہ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد امت کو متحد رکھا۔
حضرت ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ قریش کے قبیلہ بنو تیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ مکہ کے معزز تاجر تھے اور اپنی نرم مزاجی، عرب قبائل کے نسب ناموں کے علم اور دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھے۔ نبوت سے بہت پہلے سے آپ رسول اللہ ﷺ کے گہرے دوست تھے، اور جب آپ ﷺ نے انہیں وحی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے بلا تردد اسلام قبول کر لیا۔ آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے آپ ہی تھے۔
آپ نے فوراً اپنا مال اور اپنی ساکھ دینِ اسلام کی خدمت میں لگا دی۔ سیرت کی کتابوں میں منقول ہے کہ حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم جیسے ابتدائی مسلمان آپ ہی کی دعوت پر اسلام لائے۔ آپ نے ان مسلمان غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جنہیں ایمان کی وجہ سے سخت اذیتیں دی جا رہی تھیں، جن میں حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار (یعنی بلال) کو آزاد کیا۔“
آپ کا لقب ”صدیق“ یعنی سچ کی تصدیق کرنے والا، آپ کے پختہ ایمان کی علامت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر صحابہ سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تو تم نے کہا: آپ جھوٹ کہتے ہیں، اور ابوبکر نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، اور انہوں نے اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔“
جب ہجرت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہم سفر کے طور پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو چنا۔ انہوں نے دو سواری کے اونٹ تیار کیے، اور دونوں نے غارِ ثور میں تین راتیں گزاریں جبکہ قریش انہیں ہر طرف ڈھونڈ رہے تھے۔ جب کھوجی غار کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آہستہ سے عرض کیا: ”اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں دیکھ لے گا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟“ قرآن مجید نے اس لمحے کو یوں محفوظ کیا ہے: ”...جب وہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے: غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے“ (التوبہ 9:40)۔
آپ کی سخاوت بے مثال تھی۔ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے صدقے کی ترغیب دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا آدھا مال لے آئے، اس امید پر کہ آج ابوبکر سے آگے نکل جائیں گے، لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے۔ پوچھا گیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ عرض کیا: ”ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔“
آپ کی سب سے بڑی آزمائش 11 ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت آئی۔ لوگ صدمے سے نڈھال تھے اور بعض کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ آپ ﷺ وفات پا گئے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، چہرۂ مبارک سے کپڑا ہٹایا، بوسہ دیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا: ”جو محمد (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا تو محمد (ﷺ) وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ”اور محمد (ﷺ) تو بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں...“ (آل عمران 3:144)۔ صحابہ کہتے ہیں کہ گویا انہوں نے یہ آیت پہلے کبھی سنی ہی نہ تھی۔
آپ پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔ سوا دو سال کی خلافت میں آپ نے امت کو متحد رکھا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ذریعے قرآن مجید کو پہلی مرتبہ ایک جگہ جمع کروایا۔ آپ نے 13 ہجری میں وفات پائی اور رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔
اسباق
- سچی دوستی یہ ہے کہ آسانی اور مشکل دونوں میں ساتھ نبھایا جائے۔
- حق کی تصدیق کرو، چاہے دوسرے اسے جھٹلا رہے ہوں۔
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کوئی غریب نہیں ہوتا؛ اللہ پر بھروسہ ہی اصل دولت ہے۔
- مشکل گھڑی میں لوگوں کو اللہ اور اس کی کتاب کی طرف لوٹاؤ۔
- ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔
Quran references
Sources
- Quran 9:40
- Quran 3:144
- Sahih al-Bukhari 3653 (the cave)
- Sahih Muslim 2381
- Sahih al-Bukhari 3661 ('He has spoken the truth')
- Sahih al-Bukhari 3754 (freeing Bilal)
- Sunan Abi Dawud 1678; Jami' at-Tirmidhi 3675 (giving all his wealth)
- Sahih al-Bukhari 3667-3668 (address at the Prophet's death)
- Sahih al-Bukhari 4986 (first compilation of the Quran)
- Ibn Hisham, as-Sirah an-Nabawiyyah