Skip to content
HolyWayzQuran · Hadith · Salah

Prophet Yusuf (AS) حضرت یوسف علیہ السلام

80 ayahs of the Quran about prophet yusuf (as).

اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ لِاَبِيۡهِ يٰ٘اَبَتِ اِنِّيۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوۡكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِيۡ سٰجِدِيۡنَ ۝۴

یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا "ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

[Of these stories mention] when Joseph said to his father, "O my father, indeed I have seen [in a dream] eleven stars and the sun and the moon; I saw them prostrating to me

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰ٘ي اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَكَ كَيۡدًاؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۝۵

جواب میں اس کے باپ نے کہا، "بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے

He said, "O my son, do not relate your vision to your brothers or they will contrive against you a plan. Indeed Satan, to man, is a manifest enemy

وَكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَعَلٰ٘ي اٰلِ يَعۡقُوۡبَ كَمَا٘ اَتَمَّهَا عَلٰ٘ي اَبَوَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌࣖ ۝۶

اور ایسا ہی ہوگا (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے کہ) تیرا رب تجھے (اپنے کام کے لیے) منتخب کرے گا اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا اور تیرے اوپر اور آل یعقوبؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا رب علیم اور حکیم ہے

And thus will your Lord choose you and teach you the interpretation of narratives and complete His favor upon you and upon the family of Jacob, as He completed it upon your fathers before, Abraham and Isaac. Indeed, your Lord is Knowing and Wise

لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖ٘ اٰيٰتٌ لِّلسَّآئِلِيۡنَ ۝۷

حقیقت یہ ہے کہ یوسفؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

Certainly were there in Joseph and his brothers signs for those who ask

اِذۡ قَالُوۡا لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ اَحَبُّ اِلٰ٘ي اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِۙۖ ۝۸

یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا "یہ یوسفؑ اور اس کا بھائی، دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان با لکل ہی بہک گئے ہیں

When they said, "Joseph and his brother are more beloved to our father than we, while we are a clan. Indeed, our father is in clear error

اِۨقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا يَّخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ وَتَكُوۡنُوۡا مِنۭۡ بَعۡدِهٖ قَوۡمًا صٰلِحِيۡنَ ۝۹

چلو یوسفؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا

Kill Joseph or cast him out to [another] land; the countenance of your father will [then] be only for you, and you will be after that a righteous people

قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡهُ فِيۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ۝۱۰

اس پر ان میں سے ایک بولا "یوسفؑ کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا

Said a speaker among them, "Do not kill Joseph but throw him into the bottom of the well; some travelers will pick him up - if you would do [something]

قَالُوۡا يٰ٘اَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰي يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ ۝۱۱

اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا "ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟

They said, "O our father, why do you not entrust us with Joseph while indeed, we are to him sincere counselors

اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ ۝۱۲

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج د یجیے، کچھ چر چگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں

Send him with us tomorrow that he may eat well and play. And indeed, we will be his guardians

قَالَ اِنِّيۡ لَيَحۡزُنُنِيۡ٘ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَ ۝۱۳

باپ نے کہا "تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھا ئے جبکہ تم اس سے غافل ہو

[Jacob] said, "Indeed, it saddens me that you should take him, and I fear that a wolf would eat him while you are of him unaware

قَالُوۡا لَئِنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ اِنَّا٘ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ۝۱۴

انہوں نے جواب دیا "اگر ہمارے ہوتے اسے بھڑ یے نے کھا لیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں، تب تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے

They said, "If a wolf should eat him while we are a [strong] clan, indeed, we would then be losers

فَلَمَّا ذَهَبُوۡا بِهٖ وَاَجۡمَعُوۡ٘ا اَنۡ يَّجۡعَلُوۡهُ فِيۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّۚ وَاَوۡحَيۡنَا٘ اِلَيۡهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ۝۱۵

اِس طرح اصرار کر کے جب وہ اُسے لے گئے اور انہوں نے طے کر لیا کہ اسے ایک اندھے کنویں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یوسفؑ کو وحی کی کہ "ایک وقت آئے گا جب تو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں

So when they took him [out] and agreed to put him into the bottom of the well... But We inspired to him, "You will surely inform them [someday] about this affair of theirs while they do not perceive [your identity]

وَجَآءُوۡ٘ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ ۝۱۶

شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے

And they came to their father at night, weeping

قَالُوۡا يٰ٘اَبَانَا٘ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُۚ وَمَا٘ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صٰدِقِيۡنَ ۝۱۷

اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں

They said, "O our father, indeed we went racing each other and left Joseph with our possessions, and a wolf ate him. But you would not believe us, even if we were truthful

وَجَآءُوۡ عَلٰي قَمِيۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًاؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوۡنَ ۝۱۸

اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے

And they brought upon his shirt false blood. [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allah is the one sought for help against that which you describe

وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ فَاَدۡلٰي دَلۡوَهٗؕ قَالَ يٰبُشۡرٰي هٰذَا غُلٰمٌؕ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةًؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۭ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ۝۱۹

ادھر ایک قافلہ آیا اور اُس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیجا سقے نے جو کنویں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا "مبارک ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے" ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا، حالانکہ جو کچھ وہ کر رہے تھے خدا اس سے باخبر تھا

And there came a company of travelers; then they sent their water drawer, and he let down his bucket. He said, "Good news! Here is a boy." And they concealed him, [taking him] as merchandise; and Allah was knowing of what they did

وَشَرَوۡهُ بِثَمَنٍۭ بَخۡسٍ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزَّاهِدِيۡنَࣖ ۝۲۰

آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے

And they sold him for a reduced price - a few dirhams - and they were, concerning him, of those content with little

وَقَالَ الَّذِي اشۡتَرٰىهُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِهٖ٘ اَكۡرِمِيۡ مَثۡوٰىهُ عَسٰ٘ي اَنۡ يَّنۡفَعَنَا٘ اَوۡ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِي الۡاَرۡضِؗ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰ٘ي اَمۡرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۝۲۱

مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا "اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں" اس طرح ہم نے یوسفؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

And the one from Egypt who bought him said to his wife, "Make his residence comfortable. Perhaps he will benefit us, or we will adopt him as a son." And thus, We established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events. And Allah is predominant over His affair, but most of the people do not know

وَرَاوَدَتۡهُ الَّتِيۡ هُوَ فِيۡ بَيۡتِهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيۡ٘ اَحۡسَنَ مَثۡوَايَؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ۝۲۳

جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی "آ جا" یوسفؑ نے کہا "خدا کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں!) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے

And she, in whose house he was, sought to seduce him. She closed the doors and said, "Come, you." He said, "[I seek] the refuge of Allah. Indeed, he is my master, who has made good my residence. Indeed, wrongdoers will not succeed

وَلَقَدۡ هَمَّتۡ بِهٖ وَهَمَّ بِهَاۚ لَوۡلَا٘ اَنۡ رَّاٰ بُرۡهَانَ رَبِّهٖؕ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ ۝۲۴

وہ اُس کی طرف بڑھی اور یوسفؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا ایسا ہوا، تاکہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیں، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا

And she certainly determined [to seduce] him, and he would have inclined to her had he not seen the proof of his Lord. And thus [it was] that We should avert from him evil and immorality. Indeed, he was of Our chosen servants

وَاسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيۡصَهٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّاَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الۡبَابِؕ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَهۡلِكَ سُوۡٓءًا اِلَّا٘ اَنۡ يُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۝۲۵

آخر کار یوسفؑ اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسفؑ کا قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دیا دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، "کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے

And they both raced to the door, and she tore his shirt from the back, and they found her husband at the door. She said, "What is the recompense of one who intended evil for your wife but that he be imprisoned or a painful punishment

قَالَ هِيَ رَاوَدَتۡنِيۡ عَنۡ نَّفۡسِيۡ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۡ اَهۡلِهَاۚ اِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۝۲۶

یوسفؑ نے کہا "یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی" اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ "اگر یوسفؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا

[Joseph] said, "It was she who sought to seduce me." And a witness from her family testified. "If his shirt is torn from the front, then she has told the truth, and he is of the liars

وَاِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ ۝۲۷

اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا

But if his shirt is torn from the back, then she has lied, and he is of the truthful

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ ۝۲۸

جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں

So when her husband saw his shirt torn from the back, he said, "Indeed, it is of the women's plan. Indeed, your plan is great

يُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰذَاࣝ وَاسۡتَغۡفِرِيۡ لِذَنۭۡ بِكِۚۖ اِنَّكِ كُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِـِٕيۡنَࣖ ۝۲۹

یوسفؑ، اس معاملے سے درگزر کر اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی

Joseph, ignore this. And, [my wife], ask forgiveness for your sin. Indeed, you were of the sinful

وَقَالَ نِسۡوَةٌ فِي الۡمَدِيۡنَةِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖۚ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۝۳۰

شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے

And women in the city said, "The wife of al-'Azeez is seeking to seduce her slave boy; he has impassioned her with love. Indeed, we see her [to be] in clear error

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا وَّقَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّۚ فَلَمَّا رَاَيۡنَهٗ٘ اَكۡبَرۡنَهٗ وَقَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّؗ وَقُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًاؕ اِنۡ هٰذَا٘ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيۡمٌ ۝۳۱

اس نے جو اُن کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اُن کو بلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک چھری رکھ دی (پھر عین اس وقت جبکہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں) اس نے یوسفؑ کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ جب ان عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پکا ر اٹھیں "حاشاللّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے

So when she heard of their scheming, she sent for them and prepared for them a banquet and gave each one of them a knife and said [to Joseph], "Come out before them." And when they saw him, they greatly admired him and cut their hands and said, "Perfect is Allah! This is not a man; this is none but a noble angel

قَالَتۡ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيۡ لُمۡتُنَّنِيۡ فِيۡهِؕ وَلَقَدۡ رَاوَدۡتُّهٗ عَنۡ نَّفۡسِهٖ فَاسۡتَعۡصَمَؕ وَلَئِنۡ لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَا٘ اٰمُرُهٗ لَيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِيۡنَ ۝۳۲

عزیز کی بیوی نے کہا "دیکھ لیا! یہ ہے یہ وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں بے شک میں نے اِسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا

She said, "That is the one about whom you blamed me. And I certainly sought to seduce him, but he firmly refused; and if he will not do what I order him, he will surely be imprisoned and will be of those debased

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِيۡ٘ اِلَيۡهِۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّيۡ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰهِلِيۡنَ ۝۳۳

یوسفؑ نے کہا "اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا

He said, "My Lord, prison is more to my liking than that to which they invite me. And if You do not avert from me their plan, I might incline toward them and [thus] be of the ignorant

فَاسۡتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنۡهُ كَيۡدَهُنَّؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ۝۳۴

اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں، بے شک وہی ہے جو سب کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے

So his Lord responded to him and averted from him their plan. Indeed, He is the Hearing, the Knowing

ثُمَّ بَدَا لَهُمۡ مِّنۭۡ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰيٰتِ لَيَسۡجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيۡنٍࣖ ۝۳۵

پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے

Then it appeared to them after they had seen the signs that al-'Azeez should surely imprison him for a time

وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِيۡ بِهٖ٘ اَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۡۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِيۡنٌ اَمِيۡنٌ ۝۵۴

بادشاہ نے کہا "اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں" جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا "اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے

And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted

قَالَ اجۡعَلۡنِيۡ عَلٰي خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِۚ اِنِّيۡ حَفِيۡظٌ عَلِيۡمٌ ۝۵۵

یوسفؑ نے کہا، "ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں

[Joseph] said, "Appoint me over the storehouses of the land. Indeed, I will be a knowing guardian

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِي الۡاَرۡضِۚ يَتَبَوَّاُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُؕ نُصِيۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَلَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۝۵۶

اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسفؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا

And thus We established Joseph in the land to settle therein wherever he willed. We touch with Our mercy whom We will, and We do not allow to be lost the reward of those who do good

وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَࣖ ۝۵۷

اور آخرت کا اجر اُن لوگو ں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے

And the reward of the Hereafter is better for those who believed and were fearing Allah

وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡكِرُوۡنَ ۝۵۸

یوسفؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے

And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown

وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡۚ اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡ٘ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَاَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ۝۵۹

پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، "اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں

And when he had furnished them with their supplies, he said, "Bring me a brother of yours from your father. Do not you see that I give full measure and that I am the best of accommodators

فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِيۡ بِهٖ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ ۝۶۰

اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا

But if you do not bring him to me, no measure will there be [hereafter] for you from me, nor will you approach me

قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوۡنَ ۝۶۱

انہوں نے کہا، "ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر ر اضی ہو جائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے

They said, "We will attempt to dissuade his father from [keeping] him, and indeed, we will do [it]

وَقَالَ لِفِتۡيٰنِهِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ فِيۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَا٘ اِذَا انۡقَلَبُوۡ٘ا اِلٰ٘ي اَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۝۶۲

یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں

And [Joseph] said to his servants, "Put their merchandise into their saddlebags so they might recognize it when they have gone back to their people that perhaps they will [again] return

فَلَمَّا رَجَعُوۡ٘ا اِلٰ٘ي اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰ٘اَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَا٘ اَخَانَا نَكۡتَلۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ ۝۶۳

جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians

قَالَ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَا٘ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰ٘ي اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُؕ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًاࣕ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ۝۶۴

باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

He said, "Should I entrust you with him except [under coercion] as I entrusted you with his brother before? But Allah is the best guardian, and He is the most merciful of the merciful

وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡؕ قَالُوۡا يٰ٘اَبَانَا مَا نَبۡغِيۡؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَاۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍؕ ذٰلِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ ۝۶۵

پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا

And when they opened their baggage, they found their merchandise returned to them. They said, "O our father, what [more] could we desire? This is our merchandise returned to us. And we will obtain supplies for our family and protect our brother and obtain an increase of a camel's load; that is an easy measurement

قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَهٗ مَعَكُمۡ حَتّٰي تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاۡتُنَّنِيۡ بِهٖ٘ اِلَّا٘ اَنۡ يُّحَاطَ بِكُمۡۚ فَلَمَّا٘ اٰتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ قَالَ اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوۡلُ وَكِيۡلٌ ۝۶۶

ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے

[Jacob] said, "Never will I send him with you until you give me a promise by Allah that you will bring him [back] to me, unless you should be surrounded by enemies." And when they had given their promise, he said, "Allah, over what we say, is Witness

وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۭۡ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ وَمَا٘ اُغۡنِيۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍؕ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۚ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ ۝۶۷

پھر اس نے کہا "میرے بچو، مصر کے دارالسطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے

And he said, "O my sons, do not enter from one gate but enter from different gates; and I cannot avail you against [the decree of] Allah at all. The decision is only for Allah; upon Him I have relied, and upon Him let those who would rely [indeed] rely

وَلَمَّا دَخَلُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَهُمۡ اَبُوۡهُمۡؕ مَا كَانَ يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيۡ نَفۡسِ يَعۡقُوۡبَ قَضٰىهَاؕ وَاِنَّهٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ لِّمَا عَلَّمۡنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَࣖ ۝۶۸

اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی ہاں بس یعقوبؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کر لی بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں

And when they entered from where their father had ordered them, it did not avail them against Allah at all except [it was] a need within the soul of Jacob, which he satisfied. And indeed, he was a possessor of knowledge because of what We had taught him, but most of the people do not know

وَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰي يُوۡسُفَ اٰوٰ٘ي اِلَيۡهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّيۡ٘ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۝۶۹

یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں

And when they entered upon Joseph, he took his brother to himself; he said, "Indeed, I am your brother, so do not despair over what they used to do [to me]

فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَ ۝۷۰

جب یوسفؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا "اے قافلے والو، تم لو گ چور ہو

So when he had furnished them with their supplies, he put the [gold measuring] bowl into the bag of his brother. Then an announcer called out, "O caravan, indeed you are thieves

قَالُوۡا وَاَقۡبَلُوۡا عَلَيۡهِمۡ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَ ۝۷۱

انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟

They said while approaching them, "What is it you are missing

قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِكِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِهٖ حِمۡلُ بَعِيۡرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيۡمٌ ۝۷۲

سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں

They said, "We are missing the measure of the king. And for he who produces it is [the reward of] a camel's load, and I am responsible for it

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي الۡاَرۡضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيۡنَ ۝۷۳

ان بھائیوں نے کہا "خدا کی قسم، تو لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں

They said, "By Allah, you have certainly known that we did not come to cause corruption in the land, and we have not been thieves

قَالُوۡا فَمَا جَزَآؤُهٗ٘ اِنۡ كُنۡتُمۡ كٰذِبِيۡنَ ۝۷۴

اُنہوں نے کہا "اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟

The accusers said, "Then what would be its recompense if you should be liars

قَالُوۡا جَزَآؤُهٗ مَنۡ وُّجِدَ فِيۡ رَحۡلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ۝۷۵

اُنہوں نے کہا "اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے

[The brothers] said, "Its recompense is that he in whose bag it is found - he [himself] will be its recompense. Thus do we recompense the wrongdoers

فَبَدَاَ بِاَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَهَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِيۡهِؕ كَذٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوۡسُفَؕ مَا كَانَ لِيَاۡخُذَ اَخَاهُ فِيۡ دِيۡنِ الۡمَلِكِ اِلَّا٘ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُؕ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِيۡ عِلۡمٍ عَلِيۡمٌ ۝۷۶

تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی اِس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے

So he began [the search] with their bags before the bag of his brother; then he extracted it from the bag of his brother. Thus did We plan for Joseph. He could not have taken his brother within the religion of the king except that Allah willed. We raise in degrees whom We will, but over every possessor of knowledge is one [more] knowing

قَالُوۡ٘ا اِنۡ يَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُۚ فَاَسَرَّهَا يُوۡسُفُ فِيۡ نَفۡسِهٖ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡۚ قَالَ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّكَانًاۚ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ ۝۷۷

ان بھائیوں نے کہا "یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے" یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ "بڑے ہی برے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے

They said, "If he steals - a brother of his has stolen before." But Joseph kept it within himself and did not reveal it to them. He said, "You are worse in position, and Allah is most knowing of what you describe

قَالُوۡا يٰ٘اَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ اِنَّ لَهٗ٘ اَبًا شَيۡخًا كَبِيۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۝۷۸

انہوں نے کہا "اے سردار ذی اقتدار (عزیز)، اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں

They said, "O 'Azeez, indeed he has a father [who is] an old man, so take one of us in place of him. Indeed, we see you as a doer of good

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَهٗ٘ۙ اِنَّا٘ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَࣖ ۝۷۹

یوسفؑ نے کہا "پناہ بخدا، دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے

He said, "[I seek] the refuge of Allah [to prevent] that we take except him with whom we found our possession. Indeed, we would then be unjust

فَلَمَّا اسۡتَيۡـَٔسُوۡا مِنۡهُ خَلَصُوۡا نَجِيًّاؕ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡ٘ا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطۡتُّمۡ فِيۡ يُوۡسُفَۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰي يَاۡذَنَ لِيۡ٘ اَبِيۡ٘ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِيۡۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ ۝۸۰

جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

So when they had despaired of him, they secluded themselves in private consultation. The eldest of them said, "Do you not know that your father has taken upon you an oath by Allah and [that] before you failed in [your duty to] Joseph? So I will never leave [this] land until my father permits me or Allah decides for me, and He is the best of judges

اِرۡجِعُوۡ٘ا اِلٰ٘ي اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰ٘اَبَانَا٘ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَۚ وَمَا شَهِدۡنَا٘ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰفِظِيۡنَ ۝۸۱

تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے

Return to your father and say, "O our father, indeed your son has stolen, and we did not testify except to what we knew. And we were not witnesses of the unseen

وَسۡـَٔلِ الۡقَرۡيَةَ الَّتِيۡ كُنَّا فِيۡهَا وَالۡعِيۡرَ الَّتِيۡ٘ اَقۡبَلۡنَا فِيۡهَاؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ۝۸۲

آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں

And ask the city in which we were and the caravan in which we came - and indeed, we are truthful

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًاؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌؕ عَسَي اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَنِيۡ بِهِمۡ جَمِيۡعًاؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۝۸۳

باپ نے یہ داستان سن کر کہا "دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا اچھا اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملا ئے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں

[Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. Perhaps Allah will bring them to me all together. Indeed it is He who is the Knowing, the Wise

وَتَوَلّٰي عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰ٘اَسَفٰي عَلٰي يُوۡسُفَ وَابۡيَضَّتۡ عَيۡنٰهُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَهُوَ كَظِيۡمٌ ۝۸۴

پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں

And he turned away from them and said, "Oh, my sorrow over Joseph," and his eyes became white from grief, for he was [of that] a suppressor

قَالُوۡا تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ حَتّٰي تَكُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡهٰلِكِيۡنَ ۝۸۵

بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے

They said, "By Allah, you will not cease remembering Joseph until you become fatally ill or become of those who perish

قَالَ اِنَّمَا٘ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ وَحُزۡنِيۡ٘ اِلَي اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۝۸۶

اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو

He said, "I only complain of my suffering and my grief to Allah, and I know from Allah that which you do not know

يٰبَنِيَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ وَلَا تَايۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِؕ اِنَّهٗ لَا يَايۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ۝۸۷

میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں

O my sons, go and find out about Joseph and his brother and despair not of relief from Allah. Indeed, no one despairs of relief from Allah except the disbelieving people

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ قَالُوۡا يٰ٘اَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰىةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِي الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ۝۸۸

جب یہ لوگ مصر جا کر یوسفؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ "اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھر پور غلہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے

So when they entered upon Joseph, they said, "O 'Azeez, adversity has touched us and our family, and we have come with goods poor in quality, but give us full measure and be charitable to us. Indeed, Allah rewards the charitable

قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰهِلُوۡنَ ۝۸۹

(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے

He said, "Do you know what you did with Joseph and his brother when you were ignorant

قَالُوۡ٘ا ءَاِنَّكَ لَاَنۡتَ يُوۡسُفُؕ قَالَ اَنَا يُوۡسُفُ وَهٰذَا٘ اَخِيۡؗ قَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَاؕ اِنَّهٗ مَنۡ يَّتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۝۹۰

وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا

They said, "Are you indeed Joseph?" He said "I am Joseph, and this is my brother. Allah has certainly favored us. Indeed, he who fears Allah and is patient, then indeed, Allah does not allow to be lost the reward of those who do good

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَاِنۡ كُنَّا لَخٰطِـِٕيۡنَ ۝۹۱

انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے

They said, "By Allah, certainly has Allah preferred you over us, and indeed, we have been sinners

قَالَ لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَؕ يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَكُمۡؗ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ۝۹۲

اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

He said, "No blame will there be upon you today. Allah will forgive you; and He is the most merciful of the merciful

اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰي وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًاۚ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَࣖ ۝۹۳

جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ

Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together

وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ قَالَ اَبُوۡهُمۡ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَا٘ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ۝۹۴

جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا "میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں

And when the caravan departed [from Egypt], their father said, "Indeed, I find the smell of Joseph [and would say that he was alive] if you did not think me weakened in mind

قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ ۝۹۵

گھر کے لوگ بولے "خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں

They said, "By Allah, indeed you are in your [same] old error

فَلَمَّا٘ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ اَلۡقٰىهُ عَلٰي وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًاؕۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكُمۡۚ اِنِّيۡ٘ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۝۹۶

پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

And when the bearer of good tidings arrived, he cast it over his face, and he returned [once again] seeing. He said, "Did I not tell you that I know from Allah that which you do not know

قَالُوۡا يٰ٘اَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا٘ اِنَّا كُنَّا خٰطِـِٕيۡنَ ۝۹۷

سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے

They said, "O our father, ask for us forgiveness of our sins; indeed, we have been sinners

قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيۡؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ۝۹۸

اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے

He said, "I will ask forgiveness for you from my Lord. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰي يُوۡسُفَ اٰوٰ٘ي اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ وَقَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَؕ ۝۹۹

پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اُس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (اپنے سب کنبے والوں سے) کہا "چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے

And when they entered upon Joseph, he took his parents to himself and said, "Enter Egypt, Allah willing, safe [and secure]

وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَي الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًاۚ وَقَالَ يٰ٘اَبَتِ هٰذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُؗ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّيۡ حَقًّاؕ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِيۡ٘ اِذۡ اَخۡرَجَنِيۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۭۡ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡؕ اِنَّ رَبِّيۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۝۱۰۰

(شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے یوسفؑ نے کہا "ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے

And he raised his parents upon the throne, and they bowed to him in prostration. And he said, "O my father, this is the explanation of my vision of before. My Lord has made it reality. And He was certainly good to me when He took me out of prison and brought you [here] from bedouin life after Satan had induced [estrangement] between me and my brothers. Indeed, my Lord is Subtle in what He wills. Indeed, it is He who is the Knowing, the Wise

وَوَهَبۡنَا لَهٗ٘ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَؕ كُلًّا هَدَيۡنَاۚ وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ وَمُوۡسٰي وَهٰرُوۡنَؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ ۝۸۴

پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی (وہی راہ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی) اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں

And We gave to Abraham, Isaac and Jacob - all [of them] We guided. And Noah, We guided before; and among his descendants, David and Solomon and Job and Joseph and Moses and Aaron. Thus do We reward the doers of good

وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖؕ حَتّٰ٘ي اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۭۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًاؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابُۚۖ ۝۳۴

اس سے پہلے یوسفؑ تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم اُن کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے پھر جب اُن کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا اب اُن کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا" اِسی طرح اللہ اُن سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں

And Joseph had already come to you before with clear proofs, but you remained in doubt of that which he brought to you, until when he died, you said, 'Never will Allah send a messenger after him.' Thus does Allah leave astray he who is a transgressor and skeptic

All topics